Chahat Fateh Ali Khan’s Aspiration to Become PCB Chairman

Chahat Fateh Ali Khan's Aspiration to Become PCB Chairman
Sharing is Caring
Reading Time: 4 minutes

چاہت فتح علی خان کی پی سی بی چئیرمین بننے کی خواہش

چاہت فتح علی خان کی پی سی بی چئیرمین بننے کی خواہش

سوشل میڈیا پر اپنے بےسُرے گانوں کی وجہ سے شہرت پانے والے خود ساختہ گلوکار چاہت فتح علی خان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے پاکستان کے باہر ہونے کے بعد کرکٹ بورڈ کو بڑی پیشکش کردی۔

چاہت فتح علی خان اپنی ڈیبیو فلم ‘سبق’ کی تشہیر کے لیے لندن میں موجود ہیں۔ جہاں اُنہوں نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

گلوکار نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چیئرمین کے لیے تجربہ کار کرکٹر کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے بورڈ کا چیئرمین بنا دیا جائے تو میں ہفتے میں چار دن خود گراؤنڈ میں جاکر کھلاڑیوں کی پرفارمنس اور کوچنگ کا جائزہ لوں گا۔

اُنہوں نے کہا کہ میں قومی ٹیم کے لیے صرف ایک ہی کوچ منتخب کروں گا۔ اور خود جاکر دیکھا کروں گا کہ میرا منتخب کیا گیا کوچ ہماری قومی ٹیم کی کیسی کوچنگ کررہا ہے۔

چاہت فتح علی خان کی بات سُن کر صحافی نے اُن سے سوال کیا کہ کیا آپ یہ چاہتے کہ محسن نقوی کو چیئرمین بورڈ کے عہدے سے فارغ کرکے آپ کو چیئرمین بورڈ بنا دیا جائے؟ صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے چاہت فتح علی خان نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ محسن نقوی صاحب ایک بار میری پیشکش کے بارے میں سکون سے سوچ لیں۔

گلوکار نے کہا کہ محسن نقوی چیئرمین پی سی بی ہونے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر داخلہ کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر کا عہدہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور اُن پر بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ وہ چیئرمین بورڈ کی ذمہ داریاں مجھے دے دیں۔

اُنہوں نے کہا کہ میں محسن نقوی پر تنقید نہیں کررہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ مجھے بورڈ کا چیئرمین بنا دیا جائے۔ میں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے۔ میرے پاس کرکٹ کا تجربہ ہے اور کرکٹ میرا پہلا پیار ہے۔

چاہت فتح علی خان نے مزید کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ میں قومی ٹیم کو ذہنی اور دلی طور پر مضبوط بناؤں گا۔

واضح رہے کہ چاہت فتح علی خان کا اصل نام کاشف رانا ہے۔ وہ ماضی میں فرسٹ کلاس کرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ قائداعظم ٹرافی کے 1983 اور 1984 کے سیزن میں لاہور کی ٹیم کا حصہ تھے۔

چاہت فتح علی خان نے دو فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے جس میں انہوں نے تین اننگز میں صرف 16 رنز بنائے تھے۔ بعدازاں، وہ برطانیہ چلے گئے تھے۔ جہاں اُنہوں نے 12 سال تک کلب کرکٹ کھیلی۔

Chahat Fateh Ali Khan’s Aspiration to Become PCB Chairman

Chahat Fateh Ali Khan a self proclaimed singer known for his off key performances on social media has made a significant proposal to the Pakistan Cricket Board (PCB) following Pakistan’s exit from the ICC T20 World Cup. Currently in London promoting his debut film ‘Sabak,’ Chahat shared his thoughts on the national team’s poor performance in an interview with a private Pakistani TV channel.

The singer emphasized that the PCB needs an experienced cricketer as its chairman. He expressed his desire to be appointed as the chairman stating that he would personally oversee players’ performances and coaching four days a week. Chahat mentioned that he would select only one coach for the national team and would regularly check on the coach’s performance.

When a journalist asked if Chahat wanted Mohsin Naqvi to be removed from the chairman position and be replaced by him. Chahat clarified that he wasn’t suggesting such a thing. Instead he wanted Mohsin Naqvi to calmly consider his proposal. Chahat pointed out that Mohsin Naqvi is also serving as the Federal Interior Minister. A role with substantial responsibilities and suggested that he hand over the PCB chairman duties to him.

Chahat stated that his intention wasn’t to criticize Mohsin Naqvi. But to offer his services as the PCB chairman. He mentioned his background in first class cricket. Expressing confidence in his cricketing experience and passion for the sport. Chahat highlighted the need for mental toughness among the players and expressed his commitment to strengthening the national team both mentally and emotionally.

For context Chahat Fateh Ali Khan’s real name is Kashif Rana. He played first class cricket in the past being part of Lahore’s team. During the 1983 and 1984 seasons of the Quaid-e-Azam Trophy. In his brief first class career he played two matches scoring only 16 runs in three innings. Later he moved to the UK. Where he played club cricket for 12 years.

0 0 votes
Notify of
Inline Feedbacks
View all comments