Messages from Pakistani Students in Bishkek

Messages from Pakistani Students in Bishkek
Sharing is Caring
Reading Time: 5 minutes

Messages from Pakistani Students in Bishkek

بشکیک سے پاکستانی طلبا کے پیغامات

کرغزستان میں پھنسے اوکاڑہ، آزاد کشمیر، فورٹ عباس اور بدین کے طلبا کے پیغامات سامنے آگئے۔ وہ ہاسٹل میں محصور ہیں۔ جہاں ان پر حملے ہوئے اور انہیں مارا پیٹا گیا۔ جبکہ ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا بھی ختم ہوچکی ہیں۔ 

کرغزستان میں ہونے والوں ہنگاموں کی وڈیواوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے طلبا نے اپنے والدین کو بجھوا دیں۔ جن میں  مقامی شرپسند عناصر کو طلبا پر حملہ کرتے اور تشدد کرتے واضح دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستانی طلبا  خوف کے مارے  اپنے کمروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ ارسلان حیدر نامی طالب علم نے اپنےو الدین سے  رابطہ کرکے بتایا ہے  کہ ان کے پاس  کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوگئی ہیں۔  جس کی وجہ سے طلبہ  بہت پریشان ہیں۔ ارسلان حیدر کے بھائی بلال  نے حکومت سے اپیل ہے کہ ان کے بھائی کو پاکستان پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔

ہاسٹلز میں محصور ہونے والے طلبہ و  طالبات کے والدین نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کے بچوں وہاں تحفظ فراہم کیا جائے۔ کرغستان میں کوٹلی کے تیس کےقریب طلبہ و طلبا مختلف ہاسٹلز میں محصور ہیں۔ متاثرہ طلبا نے اپنے اہل خانہ  سے رابطے اور  وڈیو پیغامات  میں بتایا  ہے کہ ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئی ہیں۔ جبکہ  پانی تک ان کی رسائی بھی بند کردی گئی ہے۔

متاثرہ طلبا کا کہنا ہے کہ مقامی طلبا کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ مگر وہ  ملک نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ان کے والدین انہیں قرض لے کر پڑھا رہے ہیں۔ طلبا  کا کہنا ہے کہ ہماری زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اور رات کو  دوبارہ حملہ کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغامات میں بتایا ہے کہ  گذشتہ روز سے ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے حکومت ہماری مدد کرے۔

دریں اثنا  کرغیزستان میں فورٹ عباس کے پھنسے میڈیکل کے طلبا  نے یڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں محصور طالب علم ڈاکٹر محمد ساجد  نے بتایا کہ  طلبا سے موبائل چھین لیے گئے۔ اور گرلز ہاسٹل میں جاکر پاکستانی لڑکیوں کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد ساجد کا کہنا تھا کہ  جب  ہم ایمبیسی کال کر تے ہیں توان کا جواب آتا ہے کہ ہم نے پولیس کو بتا دیا ہے۔ جبکہ پولیس خود ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور وہ پوری پلاننگ کے ساتھ آئے ہیں۔

ایک اور طالبعلم عبداللہ کمبوہ نے بتایا کہ  فورٹ عباس کے 100 کے قریب طلبہ وطالبات بشکیک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جن میں سے درجنوں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ  بشکیک میں پھنسے پاکستانی طلبا انہتائی پریشان ہیں اور ہم محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ عبداللہ  کمبوہ کا کہنا تھا کہ  کل سے مقامی لوگ غیر ملکی طلبا پر تشدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمار ے ہاسٹل میں آکر ہمیں مارا پیٹا  جس کے نتیجے میں تین چار طالب علم زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بشکیک کے ہاسٹل میں دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ  بدین  سے تعلق  رکھنےوالے دو طلبا  حارث اور عبداللہ بھی پھنس گئے ہیں۔ محصور طالب علم حارث نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی ایمبیسی ہمیں گھر پہنچانے میں مدد کرے۔ دوسری جانب  ان طلبا کے پریشان والدین نے بھی حکومت سے اپیل  کی ہے کہ  ان کے بچوں کو بحفاظت پاکستان پہنچایا جائے۔

Messages from Pakistani Students in Bishkek

Messages from Pakistani Students in Bishkek. Pakistani students from Okara, Azad Kashmir, Fort Abbas, and Badin, trapped in Kyrgyzstan have sent messages describing their dire situation. They are confined in hostels where they have been attacked and beaten. And they have run out of food and water.

Students from Okara have sent videos to their parents showing local assailants attacking and beating them. Pakistani students terrified are confined to their rooms. Arsalan Haider a student contacted his parents to report that they have no food. Causing great distress among the students. His brother Bilal has appealed to the government to arrange for his brother’s safe return to Pakistan. Parents of the trapped students have appealed to the Prime Minister of Pakistan to ensure their children’s safety.

About thirty students from Kotli are trapped in various hostels in Kyrgyzstan. In video messages to their families they have reported running out of food and being cut off from water supplies. The affected students are receiving threats from local students. And cannot leave because their parents have taken loans for their education.

They have expressed that their lives are in severe danger and fear another attack at night. They have been harassed since the previous day and urgently request government assistance.

Medical students from Fort Abbas trapped in Kyrgyzstan have also sent video messages. Dr. Muhammad Sajid reported that their mobile phones were taken. And Pakistani girls in the hostels were harassed. Dr. Sajid mentioned that the embassy responds by saying they have informed the police. But the police are colluding with the attackers and the assaults are well planned.

Another student Abdullah Kamboh reported that around 100 students from Fort Abbas are studying in Bishkek with many currently trapped. He described the extreme distress and confinement they are experiencing and reported that local attackers have injured several students.

Among the trapped students in Bishkek hostels are Haris and Abdullah from Badin. Haris has appealed to the Pakistani embassy to help them return home. Their worried parents have also urged the government to ensure the safe return of their children.

The students and their parents are making urgent appeals for help. Highlighting the severe threats to their safety and well being. They seek immediate intervention to ensure their safe return to Pakistan.

5 1 vote
Notify of
1 Comment
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
29 days ago
Article Rating :